ایک دفعہ کی بات ہے، ایک خرگوش اور ایک کچھ زمینی سمندری کچوا کی دوستی ہوئی. دونوں دوست بہت محنتی اور لاچار تھے۔ خرگوش تیزی سے دوڑتا اور کچھ زمینی سمندری کچوا بہت دھیمے کاری کرتا تھا۔ ایک دن، خرگوش نے کچھ زمینی سمندری کچوا سے کہا، "تم ٹہلا جاتے ہو اور میں تمے نہیں پہنچتا۔ میں جتنا بھی محنت کرتا ہوں، تم مجھ سے پہلے پہنچ جاتے ہو۔" کچھ زمینی سمندری کچوا نے مسکرا کہا، "تم تو بہت تیزی سے دوڑتے ہو، لیکن میں تیرے ساتھ ہمیشہ قدم بستر رہتا ہوں۔ میں ہمیشہ اپنے منزل کو ٹھیک وقت پر پہنچتا ہوں۔" خرگوش مسکرا کر بولا، "تو کبھی بھی میری تیزی پر براجمان کرتا نہیں ہوسکتا۔" ایک دن، دونوں دوستوں نے ایک میدان کا سفر شروع کیا، جس کی انتہائی دوری تک پہنچنا تھا۔ خرگوش تیزی سے دور بھاگتا رہا جبکہ کچھ زمینی سمندری کچوا چھوڑ کے ہارپیچ ہوتا رہا۔ خرگوش نے سفر کے دوران ایک جھینگا دیکھا۔ وہ اپنے دوست کو رکھتے ہوئے سوچنے لگا، "اگر میں ابھی جھینگا کو دیکھ لیتا ہوں تو میں اس سفر میں مزید محنت کرسکتا ہوں۔" اس لئے خرگوش اہستہ-اہستہ چلتے ہوئے اس جھینگے تک پہنچ گیا۔ دور سے دیکھتے ہی کچھ زمینی سمندری کچوا نے آواز لگائی، "دوست! تم کیسے اتنی دیر میں جھینگے تک پہنچ گئے؟" خرگوش مسکرا کر بولا، "دیکھو! اگر بہت تیزی سے چلوں تو میری اطاعت بھی نہیں کر سکتی ہوتی۔" دونوں دوستوں نے اپنی سفر جاری رکھی۔ خرگوش تیزی سے دوڑتے رہا، لیکن کچھ زمینی سمندری کچوا ہمیشہ اس کے ساتھ ہی رہتا رہا۔ آخر میں، خرگوش تھک گیا اور رک گیا۔ اس کے بعد کچھ زمینی سمندری کچوا نے مثال میں مضبوطی ظاہر کرتے ہوئے کہا، "دیکھو! ماں تو کم طاقتوں والی تیزی کا استعمال کرتی ہے۔" خرگوش نے مسکرا کہ کہا، "تو صحیح کہتا ہے! پہلے سے مالوم ہی تھا کہ بہتر ہے اگر ہم ایک دوسرے کی مدد کرتے رہیں۔" اس طرح، خرگوش اور کچھ زمینی سمندری کچوا آگے بڑھنے کے لئے ایک دوسرے کی مدد کیا کرتے رہے۔ ان کی دوستی مثالی نمونہ بنی اور وہ دونوں ہمیشہ ایک دوسرے کا احترام کرتے رہے۔ یہ دکھاتا ہے کہ ہمیشہ زندگی میں تعاون و اتحاد بڑا اہم ہوتا ہے۔



Super
ReplyDelete